تاب و تواں
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - مجال، قدرت، طات۔ مگر غبار ہوئے پر ہوا اڑا لے جائے وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٨٤ ) ٢ - ظرف، حوصلہ۔ (نوراللغات) ٣ - صبر، قرار، برداشت۔ لیا جان و دل و تاب و تواں کو الم اور غم نے لوٹا کارواں کو ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٩ )
اشتقاق
فارسی زبان سے مرکب عطفی ہے۔ لفظ 'تاب' اور 'تَواں' کو واؤ معطوفہ سے ملایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٦٢ء کو ظفر؛ بحوالۂ نوراللغات، کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔